Wednesday, 2 July 2014

یہ ارض وطن ہے جاں اپنی ۔۔ عبدالرحمان کی کہانی

یہ ارض وطن ہے جاں اپنی ۔۔ عبدالرحمان کی کہانی

میاں اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


انسان کی ز ندگی کے نشیب و فراز بھی عجیب ہیں جب انسا ن کا جی چایتا ہے کہ وہ سکون وآرام کرئے اُس وقت ایسا ہو نہیں پاتا۔اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ خوشی اُس وقت میسر آتی ہے جب انسان کے لیے اُس کی چنداں اہمیت نہیں رہتی۔ عبدالرحمان کی عمر اُس وقت سولہ سال تھی جب اُس کا باپ فوت ہوا۔ عبدالرحمن تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اُسکا باپ ایک شریف انسان تھا۔ اس لیے اپنی نوکری کے دوران اُس نے حرام کا لقمہ کبھی نہ خود کھایا تھانہ اپنی اولاد کے لیے کبھی اُس نے ایسا کیا ۔ ابھی ایک بیٹی کی شادی ہی ہوئی تھی کہ عبدالرحمن کا والد حاکم علی اپنی زندگی کے ایام مکمل کرکے نئی امید بھری راہوں کا راہی بن کر ملکِ عدم روانہ ہوگیا۔ عبدالرحمن کی رگوں میں ایک شریف ا لنفس باپ کا خون تھا اُسکی سمجھ سے بالا تر تھا کی یہ اچانک کیا ہوگیا۔ ماں نے بہتیرا سمجھایا کہ میرے لال اب زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے تمھیں بہت محنت کرنا ہوگی۔ یہ تقسیمِ ہند سے پہلے کا دور تھا پاکستان بننے کی قرارداد منٹو پارک جلسے میں منظور ہوئے دو سال بیت چکے تھے۔ ہر طرف تقسیم کی باتیں ہو رہی تھیں عبدالرحمن بھی گرمجوشی کے ساتھ تحریکِ آزادیِ پاکستان میں حصہ لے رہا تھا۔ کچھ عرصہ عزیزواقارب نے مدد کی اور گھر کا نظام چلتا رہا۔ آخر کب نطام اسی طرح رہتا۔عبدالرحمن نے پڑھائی کو خیرباد کہہ کر ایک کارخانے میں نوکری کرلی اور یوں گزر بسر ہونے لگی ۔ عبدارحمن کی ماں کو اپنی بیٹیوں کو بیاہنے کی بہت فکر تھی اُس نے کوشش کرکے باقی دونوں بیٹیوں کو بھی بیاہ دیا زندگی کا سفر رواں دواں رہا ۔ مطالبہ پاکستان میں شدت آچکی تھی ۔ عبدالرحمن ملازمت کے اوقات سے فارغ ہو کر آزادی کے مطالبے کے لیے منعقدہ جلسوں میں شرکت کرتا۔ہر طرف نعروں کی گونج ہوتی۔ لے کر رہیں گے پاکستان۔بن کے رہے گا پاکستان۔ ہندوں کی طرف سے یہ نعرہ لگتا جس نے مانگا پاکستان اُس کو دیں گے قبرستان۔ عبدالرحمن دہلی شہر کا باشندہ تھا۔ وہ اپنے ہم عصر دوستوں کے ساتھ پاکستان کے حق میں دن رات جلسوں میں شریک ہوتا۔ اُسے محمد علی جناح کی شخصیت میں بڑی جاذبیت محسوس ہوتی۔ وہ دن اُسکی زندگی کا انمول دن تھا جب وہ اپنے شہر کے ریلوئے اسٹیشن پر قائد اعظم کے دیدار کے لیے موجود تھا۔اچانک ریل رکی دروازہ کھلا مسلمانوں کے دلوں کی
دھڑکن نہایت سنجیدہ اور بارعب شخصیت کے حامل محمد علی جناح نمودار ہوئے مسلمانوں کا جوش وجذبہ دیدنی تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ ال لل لاہو کے نعرے عروج پر تھے۔ قائد اعظم ریل سے باہر تشریف لائے ریلوئے اسٹیشن پر تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ عبدالرحمن جو کہ قائدؒ کی سحر انگیز شخصیت کا دیوانہ تھا وہ آگے بڑھا ۔جو ش و خروش سے بھر پور نعرے لگ رہے تھے۔اُس کو ہوش تب آیا جب وہ قائد کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر واپس پلٹا۔ وہ ایک عجیب سی نشے کی کیفیت میں سرشار تھا۔ اُس دم اُسکو یہ محسوس ہو رہا
تھا جیسے وہ دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تھا۔عبدالرحمٰن کی آنکھوں میں شدتِ جذبات سے آنسو تھے اُس کی کیفیت اُس عاشق جیسی تھی جو اپنے محبوب کے وصال سے نہال ہو چکا تھا۔ وہ سرشاری میں گم تھا اُسے تو ہوش تب آیا جب اعلان ہوا کہ قائد ؒ محترم ابھی جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔ عبدالرحمٰن بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جلسہ گا ہ کی طرف روانہ ہوا۔
عبدالرحمان انسانی آزادیوں کا علمبردار تھا وہ انسانی حقوق کے لیے زندگی کی ساعتوں کو وقف کرچکا تھا۔عبدا لرحمان جب کبھی بھی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ پر فور کرتا تو وہ سوچوں کے سمندر میں فرق ہوتا چلا جاتاوہ خود کو حضرت عمر فاروق میں پاتا جن کے عدل نے دُنیا بھر میں اسلام کا بول بالا کیا وہ خود کو حضرت ابوبکرصدیقؒ کا غلام پاتا اور اُن کی نبی پاک ﷺ سے محبت کی حلاو توں کو اپنے تصور ہی تصور میں
اپنی روح پر محسوس کرتا۔اُس کا جی چاہتا کہ کاش اُس نے نبی پاکﷺ کے غلام حضرت بلال حبشی ؒ کی غلامی کی سعادت حاصل کی ہوتی ۔ وہ چشمِ تصور میں گھوڑے پر بیٹھا حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی کا خودکو سپاہی پاتا اور اُنکی قیادت میں مجاہدانہ کردار ادا کررہا ہوتا۔ اُسے سلطان محمود غزنوی کی یاد کی حدت اپنے دل میں محسوس ہوتی اور وہ سرزمین ہندوستان میں ُ بت شکنی کے کارنامے یا د کرتا۔ وہ محمد بن قاسمؒ کی بہادری کو اپنے لیے مشعلِ راہ قرار دیتا ،دل زبان سوچیں سب اِس بات کی گواہ رہتیں کہ آقا کریمﷺ کی غلامی میں ہی مسلمانوں کی کامیابی اور نجات ہے۔ عبدالرحمان کی سوچ علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم ؒ کی سوچ کا مظہر تھی۔ عبدالرحمان زندگی کو ہمیشہ بہار کی طرح گردانتا اُسے یہ بات بڑی تکلیف دیتی کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں مذہبی آزادی پوری طور حاصل نہ تھی۔ اُس کے محلے دار دوست وغیرہ ہمیشہ اُسے طعنہ دیتے کہ وہ خواہ مخواہ جنونی مسلمان بنتا ہے وہ اُن ہندو اور سکھ دوستوں کو سمجھاتا کہ وہ اگر اپنے رب کی توحید پر ایمان رکھتا ہے اور وہ اپنے نبی پاکﷺ کے عشق کو ایمان کا درجہ دیتا ہے۔ تو وہ پھر دنگی فسادی کیسے ہو گیا۔ کیا اپنے نبی پاکﷺ کی شان میں گستاخی برداشت کرنا اعتدال پسندی ہے۔ عبدالرحمان کی کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ یہ سمجھنے لگ گے تھے پاکستان کی خاطر اپنی جان کی بازی کا دعوی کرنے والے اب کسی طور پیچھے ہٹنت والے نہیں ۔
عبدالرحمان کو جب ایسے لوگوں کی باتیں سننے کو ملتیں جو کہ مذہب کے نام پر تقسیم کے خلاف تھے تو عبدالرحمان اُن کا سمجھاتا کہ کیا انگریز دور میں مسلمان اور ہندووں امن و آشتی سے رہ رہے ہیں؟ کیا مسلمان اور ہندوو کا کلچر ایک جیسا ہے؟ کیا ہندووں اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ شادیاں کرتے ہیں ؟ کیا ہندو چھوت چھات کے قائل نہیں ہیں؟ کیا مسلمانون اور ہندووں کا سماجی ڈھانچہ ایک جیسا ہے؟ عبدالرحمان کہتا کہ ہم تو صرف ایک رب کو اپنا رب مانتے ہیں۔ ہم تو الہامی کتابوں کو مانتے ہیں۔ ہندووں تو ایک خدا کے قائل ہی نہیں ہیں۔ ہندو نہ ہی الہامی کتابوں کو سچا قرار دیتے ہیں۔ ہندو تو ذات پات چھوت چھات میں اتنے ُ پرعزم ہیں کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کو ہی شودر سمجھتے ہیں اور اُن سے ہاتھ ملانا بھی گناہ قرار دیتے ہیں۔
تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا ۔ برصغیر پاک وہند کے طول و عرض میں مسلمان اپنے قائد محمد علی جناحؒ کی ایک آواز پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔ قائدؒ کی پکار پر پورے ہندوستان کے بچے بوڑھے، جوان،طالبعلم۔ علماء مشائخ ، خواتین سب میدان میں تھے اور پاکستان کے حصول سے کم کسی بھی ایجنڈے پر بات کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔آخر وہ دن آپہنچا۔ جب پاکستان کے مطالبے کی شدت نے انگریزوں کو مجبور کردیا کہ پاکستان اور ہندوستان کو علحیدہ اور خود مختار ملک بنانے کے علاہ اُن کے لیے کوئی اور چارہ نہ تھا۔ انگریز حکمران اس بات کا ادراک رکھتے تھے کہ ہندو اور مسلمان کبھی بھی اکھٹے نہیں رہ سکتے۔اور ہندوستان میں مسلمانوں نے سینکڑووں سال حکومت کی اُس کے باجود دونوں قومیں آپس میں مد غم نہ ہوسکیں۔ پس انگریز اس بات پر مجبور ہوگے کہ پاکستان کا بننا ناگزیر ہے۔ مسلمانوں کے لیے علحیدہ وطن کا مطالبہ صرف زمیں کا ٹکرا حاصل کرنے کے لیے نہ تھا ۔بلکہ یہ تو نظریات کی جنگ تھی۔ یہ توحید اور بُت پرستی کے درمیاں فرق تھا۔ مسلمان کیسے اپنا نظریہ اسلام چھوڑ سکتے تھے۔ جب برصغیر کی تقسیم کا اعلان ہوا تو مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور دوسرے علاقے ہندوستان کے حصے میں آئے۔ عبدالرحمان کا علاقہ تو دہلی تھا اور دہلی پاکستان کی جغرافائی حدود میں نہ تھا۔ پس عبدالرحمن کو محلے داروں اور رشتے داروں نے سمجھایا کہ تم اِدھر ہی رہ جا ؤ۔ لیکن اُس کو تو پاکستان سے عشق تھا اُس نے اپنی ماں کو بھی رضا مند کرلیا تھا کہ وہ دو نوں پاکستان ہجرت کرجائیں۔ 17 اگست 1947 ء کی سحری کا وقت تھا عبدالرحمان اپنی ماں کے ساتھ ایک پوٹلی کپڑووں کے سر پر رکھے ان دیکھے راستوں کا مسافر بننے کے لیے تیار تھا اپنا گھر اپنے ماموں کو دے دیا تھا۔ ماموں نے بہتیرا سمجھایا تھا کہ عبدالرحمان تم خود پاکستان چلے جاؤ جب وہاں کوئی ٹھکانہ وغیرہ بن جائے تو اپنی ماں کو بھی لے جانا لیکن عبدالرحمان کو کون سمجھاتا وہ تو محمد علی جناحؒ کا عاشق تھا ۔ جب بوڑھی ماں کے ساتھ اُس نے لاہور جانے کا راستہ لیا تو اُس کے اندر ایک عجیب سی روحانی کیفیت جگہ بنا چکی تھی۔ مختلف بسوں ٹرکوں پر سفر کرتے ہوئے ماں بیٹا واہگہ بارڈر سے ابھی چند میل دور تھے کہ سکھوں نے اُن کے قافلے پر حملہ کردیا بس پھر کیا تھا عبدالرحمان کے پاس تو کوئی اسلحہ تھا نہیں وہ اپنی ماں کو نہ بچا سکا وہ سکھوں کے ہا تھوں شہید ہوگی۔ ماں کے میت کو وہیں چھوڑ کر عبدالرحمان قافلے میں بچ جانے والے لوگوں کے ساتھ پاکستان کی سرحد میں آگیا اور مناواں گاوٗں میں قائم مہاجر کیمپ میں رہنے لگا۔ کیمپ میں روٹی پانی مل جاتا اور وہ گزر بسر کرتا۔ پھر ایک دن الا ٹمنٹ کے محکمے والوں نے کیمپ میں موجود سب لوگوں کو ایک ایک مکان الاٹ کردیا۔ عبدالرحمان اُداس تھا کہ اُس کی کُل کائنات اُسکی ماں اس پیارے وطن میں اُسکے ساتھ نہ تھی وہ ایک نئے دور کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر ہوگیا۔ عبدالرحمان کو یقین کامل تھا کہ اُس نے یہ ہجرت کسی مادے فائدے کے لیے نہیں بلکے اپنے رب پاک اور نبی پاکﷺ کی خوشنودی کے لیے کی تھی۔ عبدالرحمان اب بھی اندرون لاہور شہر کے ایک کوچے میں رہائش پذیر ہے اور اُس کے بیٹے ، پوتے نواسے اُس کو اپنے لیے مینارہ ِ نور سمجھتے ہیں۔ عبدالرحمان گو کہ بوڑھا ہو چکا ہے لیکن اب اُس کے دل میں تحریک پاکستان والا جذبہ قائم دائم ہے وہ اپنے خاندان والوں کو یہ ہی سبق دیتا ہے کہ اس وطن کی حفاطت کرو اس کی بنُیادوں میں شہیدوں کا لہو ہے۔صرف ڈالر کمانے کی خاطر اس کو چھوڑ کے مت جاؤ کیونکہ ڈالر تو مل جائیں گے لیکن آزاد وطن کی آزاد سانسیں حا صل نہ ہو پائیں گی۔ عبدالرحمان کا اپنے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کو کہنا تھا
کہ اس وطن کی قدر کرو یہ وطن یونہی پلئٹ میں رکھ کر انگریزووں ور ہندوون نے ہمیں نہیں دے دیا تھا بلکہ اس کے لیے ملمانون نے ایک طویل جدوجہد کی تھی۔ اس وطن کی تحریک کا آغاز حضرت محمد بن قاسم ؒ کی برصغیر آمد سے ہوا اور اس وطن کی تحریک میں برگزیدہ ہستیوں کی محنت شاقہ شامل ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ ، میاں میرؒ ، شاہ شمس تبریزؒ ، سائیں سچل سرمتؒ ، میاں وڈا صاحبؒ ، نوشہ گنج بخشؒ ، جیسے اولیاء اکرام کا یہ پاکستان فیضان ہے۔ عبدالرحمان نے اپنے بیٹوں ، بیٹیوں اور اُن کی اولادوں کی تربیت اس انداز میں کی کہ نبی پاکﷺاور پاکستان کی محبت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا۔عبدالرحمان اپنے بچوں کو پاکستان کے وجود کی اہمیت دلواتا اور اُنہیں سمجھاتا کہ حضرت علامہ اقبال ؒ نے اسلامیان ہند کو پیغام خودی دیا ۔ انہیں جگایا اور ایک قوم کی شکل میں متشکل کر دیا ۔ حضر ت قا ئد اعظم ؒ نے اسلامیان ہند کو اپنی تقاریر ، خطابات ، اور علمی اور قانونی نظریات وارشادات کی روشنی میں انگریزوں اور ہندؤں کی استعمار پسند انہ اور تشدد آمیز رویوں سے آگاہ کرتے رہے اور انہیں اپنی اسلامی اقدار و رو ایا ت اور تاریخ کی روشنی میں تیار رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔ حضرت قائداعظم ؒ نے اسلامیان ہند کے قلوب واذہان میں آزادی کی جو لو لگائی وہ الاؤ بن کر سامنے آئی اور پاکستان دنیائے انسانیت کے نقشے پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ ظہور پزیر ہوا۔ قرآن حکیم نے استفسار فرمایا: خدا تعالیٰ نے تم سب کو تخلیق فرمایا ‘ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند و بالا اور عالمگیر انسانیت سے انکا کردیا ‘ اور دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ ((64/2 یہی وہ انسانیت کی تفریق اور امتیاز کا معیار ہے جو قرآن حکیم انسانوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ اسی کے مطابق دواقوام واضح ہوتی ہیں ایک مسلم دوسری غیر مسلم ۔ ایک مومن اور دوسری کافر یہی وہ فلسفہ فکر نظر تھا کہ حضرت نوح ؑ اپنے بیٹے سے الگ ہو گئے اور حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے علیحدہ ہو گئے۔ کیونکہ دونوں کی حقیقی کیفیت میں نظرۂ حیات مبنی بروحی سے ہم رنگ اور ہم آہنگ نہ تھا قرآن کے حوالے سے حضرت ابر اہیم ؑ کو کہنا پڑا۔ (یعنی تم میں او ر ہم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کے لیے کھلی عداو ت اور نفرت رہے گی۔)چنانچہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسلامی ریاست وحکومت میں کسی غیر مسلم کو کبھی شامل نہ گیا۔ حضور پاک ﷺ کی مجلس شوریٰ میں کبھی کوئی غیر مسلم نہ تھا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ علیم اجمعین کی مجلس شوریٰ اور پارلیمان میں کوئی غیر مسلم داخل نہ تھا ۔ بلکہ کافر یا غیر مسلم ، ملت اسلامیہ کا فرد ہی نہیں تھا لہٰذا اسلام اور قرآن کے نزول کے ساتھ ہی بنی انسان دو مختلف نظریات اور حتمی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ ایک نظریہ ایمان نہ لانے والوں کا ۔ چنانچہ اولاد آدم دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی شرار بو لہبی ایک جانب اور چراغ مصطفیٰ ﷺ دوسری جانب ، اس نظریے نے خون اور حسب و نسب کی نفی نھی کردی ۔ برادری ، قبیلے اور ذات پات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ۔ اس کی بہترین مثال جنگ بدر اور جنگ اْحد ہے جس میں نبی آخر الزماں حضور اکرم ﷺ دوسرے صحابہ کرام کے قریبی رشتہ دار دشمن کے صف میں براجماں تھے، چنانچہ قرآن نے کافروں اور منافقین کے ضمن میں ملت اسلامیہ کو بڑی سختی سے متبنہ کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے نظرۂ پاکستان کا آغاز ، تشکیل ، اور تراویج برصغیر میں اس وقت ہوئی جب مسلمانوں کو انتشار و افتراق اور زوال و انھطاط کا سامنا کرنا پڑا اور ہندوں کی اصل فطرت کے شاہکار وں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کے مظالم کا گھناونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ بالخصوص 1857ء ؁ کی جنگ آزادی کے بعد کی بڑی دلدوزداستان ہے، جسے غربی اور شرقی مفکرین و مصنفین نے خوب بیان کیا ہے یہ اپنے طور پر ایک طویل داستان ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد کی کتاب india wins freedom ولیم ہنٹر کی کتاب 5 indian mussalmans عبدالوحید خان کی کتاب تقسیم ’’ہند‘‘ اور ان کی دوسری کتاب ’’ مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ کالنز اور لاپیئر کی کتاب \'freedom at midnight\' اور پروفیسر منور مرزا کی کتاب Dimension of Movement اور دیوار’’ برہمن‘‘ کا مطالعہ کرلیں۔ ان شنکرو ں ، دیالوں ، بگوپالوں ، مہاجروں، ساہنیوں ، دھوتی پرشادوں ، چٹیا گھنٹانوں ، ایڈانیوں ، ملکانیوں، مشراوں، بال ٹھاکروں، من موہنوں اور بڑے بڑے مہاپرشوں نے اسلام ، پاکستان ، نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ اور مسلمان دشمنی میں کسر اٹھا رکھی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ ہمارے سابق مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے غدار سیاستدانوں نے ہماری تاریخ اسلام کو منسخ کر کے رکھ دیا۔ جو ایمانی اور ایقانی روح سے محروم تھے۔ جو قرآنی جرات و استقامت سے سرمایہ دارا نہ تھے۔ ہمارے جسم کا ایک بازو کٹ گیا چنانچہ اندر گاندھی نے زور خطابت کے نشے میں یہ کہا ’’ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، ہم نے ایک ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ہم نے اندرا گاندھی اور ان کے مخلص چیلوں چانٹوں اور حواریوں اور ان کے حاشیہ برداروں کو اسی وقت باور کرارہے ہیں اور کراتے رہیں گے کہ جب تک ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر پاک و ہند میں زندہ ہے اسلام اور کفر کی جنگ جاری رہے گی، اسلام کا جھنڈا موجود رہے گا ،۔ عبدالرحمان ضیف اور بوڑھا ہونے کے باوجود حضرت علامہ اقبالؒ کے مزار پر اکثر حاضری دیتا ہے اور ۱۴ اگست کو یوم پاکستان جوش و خروش سے مناتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبد الرحمان جیسے عظیم لوگ ہمارے معاشرے کے لیے سرمایہ افتخار ہیں جن کے سامنے مادی ترقی ہیچ ہے اور نظریات،رب پاک اور اُس کے نبی پاک ﷺ کی محبت سب سے اعلیٰ و ارفع ہے۔عبدالرحمان کی زندگی کا مرکز و محور پاکستان سے محبت اور پاکستان کے لوگوں سے محبت ہے۔ وہ پاکستان بنانے کی اُن وجوہات کو نوجوانوں کے اذہان میں ڈال رہا ہے جو پاکستان کے وجود کی حقیقت نہیں جانتے۔ عبدالرحمان کو پاکستان سے محبت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اُس نے پاکستان کی تحریک میں خود حصہ لیا اور قائد اعظمؒ کے سامنے یہ عہد کیا تھا کہ اس وطن کو لے کر رہیں گئیااور اس پاک وطن کے لیے جان مال کی قربانی ، ماں کی شہادت اور اپنے اباوء اجداد کے علاقے سے ہجرت اور بہنوں، رشتے داروں سے جُدائی کا صدمہ برداشت کیا تھا۔ عبدالرحمان جیسے تحریک پاکستان کے گمنام مجاہد اس وطن کے لیے ایک روشن مینار ہیں۔پاکستان زندہ باد۔


ف میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ انسانی حقو ق کی عا لمگیر تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے چئیرمین اور ہیومن رائٹس فرنٹ پاکستان کے سربراہ ہی

No comments:

Post a Comment