Wednesday, 2 July 2014

آہوں کا رِستا ہو ا لہو۔

آہوں کا رِستا ہو ا لہو۔

میا ں اشرف عاصمی

ایڈوکیٹ ہائی کورٹ

ماں اپنے لاڈلے جواد اور لاڈلی زیبا پر اپنی پہاڑ جیسی جوانی قربان کر چکی تھی۔ جسیے تیسے کرکے محنت مزدوری کی جواد کو تعلیم دلوائی اسی طرح چھوٹی زیبا کو بھی اُس نے پڑھایا۔ماں سارا دن لوگوں کے کپڑے سیتی یوں اُس نے انپے خاوند کی موت کے بعد اپنے گھر کی روٹی ،پانی کا انتظام چلایا۔ جب اُس کا خاوند اُسے اکیلا چھوڑ کر منوں مٹی میں جا سویا تھا اُس وقت جواد تین سال کا تھا اور زیبا چھ ماہ کی تھی ۔جواد کو اپنے با پ سے بڑا پیار تھا اُس نے اپنی توتلی زبان سے ابا کہنا سیکھا ہی تھا کہ اُسکا پیارا لاڈو ابا اپنے ننھے سے جواد اور معصوم بیٹی زیبا اور اپنی وفا کا پیکر بیوی کو چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے ایسے دیس روانہ ہوگیا تھاجہاں سے واپسی کبھی کسی کی آج تک نہ ہوئی ہے۔جہاں سے کبھی کسی کے خط کا جواب بھی نہیں آیا کرتا ۔ یوں رخشیندہ جو ابھی مشکل سے چوبیس سال کی ہوئی تھی بیوگی کے پُل صراط پر سے گزرنے کے لیے سوائے اُس کے رب کے اُسکا کوئی سہارا نہ تھا ۔ ماں باپ اُسکے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔اور اُسکو کسی کی خبر نہ تھی بس اتنا پتہ تھا کہ محلے کے ایک بزرگ نے اُسے بیٹی بنا کر پالا اور اُسکا بیاہ کردیا اور بس اُسکے بابا نے بھی شاید اپنی سانسوں کو ننھی رخشیندہ کے لیے سنبھال رکھا تھا جیسے ہی اُسکا بیاہ ہوا وہ بزرگ بھی داغِ مفارقت دے کر اپنے خالقِ حقیقی کو جا ملا۔ رخشیندہ کی زندگی میں بہار اور خزاں جیسے ا لفاظ میں کوئی فرق نہ تھا۔اُسے اتنا پتہ تھا کہ رب کا کام روٹی دینا ہے اور بندے کا کام کھانا ہے اُس روزی روٹی کو جب تک اٰس رب نے سانسیں دے رکھیں ہیں۔کیونکہ اُس کو پتہ تھا کہ جس ڈوری کے ساتھ بندے کی سانسیں بندھی ہوئی ہیں وہ ڈوری ایک ایسے ہاتھ میں ہے جو کہ پوری انسانیت اور سارے جگ کا مالک ہے اور وہ کچا ہاتھ نہیں بلکہ بہت پکا اور مظبوط ہے اس لیے رخشیندہ نے مایوس ہونا تو کبھی سیکھا ہی نہیں تھا۔ اِسی لیے تو جب اُس کے شوہر کی وفات ہوئی تو وہ اپنے رب کے اس فیصلے پر صابر و شاکر ہوکر ایک نئی راہ پر چل پڑی اس راہ میں اب اُس کے ساتھ اُسکا ننھا جواد اور معصوم زیبا بھی تھی یہ سفر بھی تو رب نے اُسکے لیے چنا تھا تو رب خراب راستے اپنے بندے کے لیے کیسے چُن سکتا ہے وہ تو اپنی مخلوق سے محبت کا سلوک کرتا ہے۔ رخشیندہ اپنے طور پر دن رات محنت کرکے اپنے بیٹے اور بیٹی کو پالتی رہی۔ننھا جواد جب جب سکول جاتا تو ماں اُس کو ڈھیروں دُعائیں دیتی ۔جواد کو دھن تھی کہ وہ بڑا انسان بنے گا۔ ما ں اُسکو سمجھاتی کہ بڑا انسان وہ ہوتا ہے جو کہ دوسرں کا خیال ر کھے اُن کے دکھ درد میں شریک ہو۔ماں ہمیشہ جواد کو نصعیت کرتی کہ بیٹا کبھی محنت سے جی نہیںُ چرانا ،رب پاک سے ناامید کبھی نہیں ہونا۔ننھے جواد کے اندر یہ سوچ اُس کی ماں نے جاگزیں کردی تھی کہ رب ہی کارساز ہے اور اُس سے ناامید ہونا گناہ ہے اور اسی سوچ میں جواد پروان چڑھا۔ جواد کی سوچوں میں یہ راسخ ہوچکا تھاکہ جو کچھ رب پاک نے کرنا ہے وہی ہونا ہے انسان کا کام صرف نیک نیتی سے محنت کرنا ہے جواد میٹرک میں جب سکول میں اول آیا تو اُسکی ماں کے خوشی سے آنسو نکل اُئے۔ ماں نے گھر میں رب کے پیارے رسولﷺ کا میلاد منایااور محلے کی عورتوں نے میلاد میں بھرپور شرکت کی۔ جواد کی کامیابی کے پیچھے درحقیت وہ جذبہ کارفرما تھا کہ ہمیشہ سچ بولنا ہے اور محنت کرنی ہے۔ رخشیندہ کی تربیت نے جواد کو ایک مثالی طالبعلم بنا دیا تھا۔جواد ایف ایس سی کرکے ڈاکٹر بننا چاہتا تھا۔ ماں کے پاس وسائل بہت کم تھے۔لیکن وہ بھی دُھن کی پکی تھی اور اُسے اپنے رب کی رحمت پر اتنا یقین تھا جتنا کہ اُس کو اس بات پر یقین تھا کہ وہ انسان ہے اور مسلمان ہے۔ رب پاک کی رحمتوں کے سائے تلے جواد پڑھتا چلا گیا۔ جواد کی ماں کی محنت تو تھی ہی لیکن جواد بھی کسی طرح سے بھی محنت سے جی چُرانے والا نہیں تھا۔رخشیندہ نے بیشمار تکلیفوں کے باوجود جس طرح سے اپنے لال کی تربیت کی تھی اُس کا کوئی ثانی نہ تھا۔اس لیے جواد اپنی ہر کلا س کے اُستاد کی آنکھ کا تارا بن جاتا۔جواد کی پڑھائی سے لگن اور زندگی کے معاملات میں ایک پختہ سوچ اور رائے نے اُس کو اپنے ساتھی لڑکوں سے ممتاز کر رکھا تھا۔اُسکی کامیابی کے حصول کے مقصد کے راہ میں حائل رکاوٹیں کبھی بھی اُس کے حو صلوں کو پست نہ کرسکیں۔ہر ہر مشکل گھڑی اُس کو کامیابی کے نزدیک اور مایوسیوں سے دور کرتی جا رہی تھی۔ ماں کو اپنے لاڈلے کی فکر تو رہتی لیکن اس کی ممتا نے جواد کو اُن راستوں کا راہی بنا دیا تھا ۔ جہاں دکھ اور سکھ غمی اور خوشی سب پر بندہ اپنے رب کی رضا پر شاکر رہتا ہے۔ جواد کی زندگی ایسے عنوان سے عبارت تھی جہاں بچے بچپن سے سیدھا بڑھاپے میں پہنچ جاتے ہیں۔زندگی اُن کے لیے بوجھ نہیں بلکہ اُستاد بن جاتی ہے تو بھلا پھر کبھی کو ئی اُستاد سے گلا شکوہ بھی کرتا ہے۔ وہ عا م لڑکوں کی طرح نہ کھیلا کودا نہ کبھی دوستیاں پالیں اور نہ من پسند کی کبھی شاپنگ کی۔ وقت کے سمندر نے جواد کو ایک ایسا گوہرِ نایاب بنادیا تھا جو کہ کسی بھی لمحے مایوسیوں کے قریب نہ پھٹکتا تھا۔ اُس کے سا منے تو ماں اور رب کی رضا ہی مقدم تھی کیوں ایسا نہ ہوتا جواد تو تھا ہی سراپا عجزِوانکسار۔ ماں خوش تھی باپ کی شفقت سے محروم بچہ اپنے رب کے سہارے زندگی کی منازل طے کر رہا تھا۔ رشتے دار تو کوئی تھا ہی نہیں محلے دار جو تھے وہ جواد اور اُسکی ماں کی قسمت پر رشک کرتے تھے۔ جواد کبھی کبھار اگر حالات کی تنگی سے اُکتا جاتا تو وہ رات کو اپنی چھت پر چلا جاتا اور اور آسمان کے ستاور ں کو دیکھ کر آنسو بہا کر اپنا من ہلکا کر لیتا ۔ یوں دن بیتتے چلے گےٗ۔ زندگی کا سفر ہر دم رواں رہتا ہے یہ تو انسان کے احساسات ہیں جو اس کو کبھی خوشی کبھی غم دیتے ہیں۔ورنہ زندگی تو روز اول سے ہی زندگی ہے وہ تو رکتی نہیں اُسے تو بس چلتے ر ہنا ہوتا ہے۔ انسان کو جب خوشیاں میسر آتی ہیں تو اُسکو وہ اپنا حق سمجھ لیتا ہے لیکن جبُ دکھ ملتے ہیں تو تب وہ خیال کرتا ہے کہ اُس کے ساتھ تو بڑا ظلم ہوگیاہے ۔وہ چیختا اور چلاتا ہے۔ لیکن وہ لوگ جو رب کی رضا پر قا نع ہوتے ہیں وہ اللہ کے شیر بن جاتے ہیں۔ اُن کو پھر رُباعی نہیں آتی وہ اپنی تقدیر کو خود سنوارتے ہیں اور اپنی کوتاہیوں اور غلطیوں پر کسی دوسرے کو موردِ الزام نہیں ٹھراتے۔ جواد کو تو بس اگے بڑھنا تھا۔ وہ ایف ایس سی کے امتحان میں اچھے نمبروں سے کامیابی حاصل کرنے کے بعد میڈیکل کالج چلا گیا۔ میڈیکل کالج میں اُس کو سکالرشپ ملا جسکی وجہ سے اُسکی ماں سے کافی بوجھ کم ہو گیا۔ یوں ایک دن جواد ایم بی بی ایس کی ڈگری لے کر ڈاکٹر بن گیا۔ وہ دن ماں کے لیے شادیِ مرگ کی کیفیت کا دن تھا۔اُسے زندگی کا حاصل مل گیا تھا۔ زیبا بھی اپنے لاڈلے بھائی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ڈاکٹر بن چکی تھی۔
زیبا زندگی کو اپنی ماں کی آنکھ سے دیکھتی اور ماں کی سوچوں سے سوچتی۔ زیبا کو ہر وقت فکر اپنی ماں اور بھائی کی رہتی۔وہ اس جذبے کی قائل تھی کہ بیٹیاں ،بہنیں تو اپنی ماں اور بھائیوں پر قربان ہونے کے لیے ہوتی ہیں۔ رخشیندہ کی تربیت نے زیبا کو پابند صوم وصلاۃ بنا دیا تھا۔ اُسکا بھائی بھی اُس پر ہر وقت واری ہوتا تھا۔ زیبا سوچتی کہ ماں نے کتنے دکھ اور تکلیفیں سہی ہیں کاش ایسا نہ ہوتا اُسکے ابا زندہ ہوتے اور وہ اُسکے ناز اُٹھاتے لیکن قدرت کا لکھا کون ٹال سکتا ہے۔ اُسے یہ ادراک ہو چکا تھا کہ فطرت کی ہر شے مجبور ہے۔ستم کے سلسلوں نے دراز ہی رہنا ہے لیکن رب کی رحمت سے مایوسی بھی تو کفر ہے ان خیالات کو جھٹک کر وہ خیالوں میں پریوں کے دیس پہنچ جاتی۔کسی کا تو پتہ نہیں اُسے اتنا اندازہ ضرور تھا کہ اُس نے ہر گھڑی اپنے خالق کی اطاعت میں گزارنی ہے۔ پریوں کے دیس کی سیر اُس کے خیالوں کو اتنا پاکیزہ بنا د یتی کہ وہ خود کو بھی ایک پری ہی سمجھنے لگتی۔ ماں زیبا کا دل بہلاتی اور زمانے کے ساتھ کیسے سلوک کرنا ہے اور دُنیا کی کونسی بات کو پسِ پشت ڈال دینا ہے اور کس بات پر عمل کے لیے ہر وقت تیار رہنا ہے۔ اس لیے زیبا اپنی سوچ میں اتنا گم ہوجاتی۔ کہ وہ خود کو بھی فراموش کر دیتی پھر ماں اُسکو تسلی دیتی کہ دکھ اور سکھ تو زمانے کا حصہ ہیں ۔ ؔ ’ماں کو تو یقین ہو چلا تھا کہ رب پاک نے اُسکی قسمت کتنی اچھی بنائی تھی۔ جواد کو ایک مقامی ہسپتال میں جاب مل گئی تھی ۔ زیبا بھی بھائی کے ساتھ ہی اُسی ہسپتال میں ملازمت کرنے لگ گئی۔ اسی دوران جواد سپیشلائزیشن کرنے امریکہ چلا گیا۔ ماں نے اُسکے جانے سے پہلے جواد کی منگنی کردی اور زیبا کی شادی بھی ایک ڈاکٹر سے ہوگی۔ وہ اپنے گھر ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگ گئی۔ جواد منزلیں طے کرتا ہوا امریکہ میں کامیابی حاصل کرکے جب لوٹا تو ماں کی زندگی میں بہارِجاوداں آگئی۔ جواد شہر کے سب سے بڑے ہسپتال میں کام کرنے لگا۔ دنوں میں اُسکی شہرت کو چار چاند لگ گئے۔ رخشیندہ اب بیمار رہنے لگی تھی اُس نے جواد کو شادی کا کہا ۔منگنی پہلے ہی طے تھی۔ یوں شادی کی تیاریاں شروع ہو گئیں۔ زیبا بھی ماں کا ہاتھ بٹانے کے لیے ماں کے گھر آگئی وہ ایک ننھی سے کلی کائنات کی ماں تھی۔ شادی کی شاپنگ اور دیگر تیاریوں میں وقت تیزی سے گزرتا گیا اور پھر وہ دن آپہنچا جب جواد گلے میں پھولوں کی مالا سجائے اپنی ماں کی خوشیوں میں رنگ بھرنے کے لیے بارات کے ساتھ دلہن کے گھر کی طرف روانہ ہوا۔ بارات گاڑیوں کے قا فلے میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھی کہ اچانک دھماکے کی آ واز سنائی دی ا ور اگلے دن کے اخبارات میں یہ خبر نمایاں تھی کہ کل شہر میں ہونے والے خود کش دھماکے کی زد میں ایک بارات بھی آگئی اور یوں دلہا اپنی ماں بہن اور دیگر عزیزواقارب کے ساتھ اُس بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا۔ صوبے کے وزیر اعلیٰ کا بیان بھی ساتھ چھپا تھا کہ مجر موں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا۔ روشن راہوں کی مسافر رخشیندہ اپنی بیٹی،داماد، زیبا کی بیٹی اور جواد کے ساتھ ناکردہ جرم کی سزا میں ہلاک ہوکر اپنے پیارئے رب کے حضور پیش ہو گئی۔ رخشیندہ کی روح ازل سے ابد تک کی طرح مطمن ٹھری لیکن جواد ، زیبا وغیرہ کی روحیں بے چینی رہتی اور حیران تھیں کہ کس جرم کی سزا میں وہ اپنی طبعی موت سے پہلے ہی موت کے آنگن میں اُتر آ ئیں۔ قدرت کے اپنے اصول اور ضابطے ہوا کرتے ہیں۔لاکھ کوشش کے باوجودجس کی جتنی زندگی تھی اُس نے اتنی ساعتیں گزار لیں لیکن اُن کی روحوں کی بے قراری ایسی تھی کہ اُن کی سمجھ سے بالا تر تھا کہ دل دماغ سوچیں گواہی دینے سے قاصر تھیں کہ ان معصوموں کا کیا قصور تھا؟
،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ انسانی حقو ق کی عا لمگیر

عہدساز روحانی علمی شخصیت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الاازہریؒ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

عہد ساز روحانی علمی شخصیت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الاازہریؒ

میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہائی کورٹ

وطن پاک میں عظیم ترین لوگوں کی مساعی جمیلہ کا کردا ر مختلف شعبوں میں رہا ہے ۔ دین اسلام سے محبت اور جدید دُنیا کے تقاضوں سے ہم آہنگ معاشرئے کی نفسیاتی سوچ میں ہمہ گیر مثبت ردِ عمل کے فروغ میں جسٹس پیرکرم شاہؒ جیسے عظیم مصلع مدبر،دانشور بیمثل خطیب، نامور قانون دان تاریخ دان ،اُستاد کا بہت بڑا کردار ہے۔ بھیرہ سرگودہا کی مردم خیز مٹی میں پروان چڑھنے والی عظیم شخصیت جسٹس پیرکرم شاہ نے معاشرتی، سماجی، عمرانی، مذہبی اور نفسیاتی حوالوں سے معاشرئے پر انمٹ اثرات چھوڑئے ہیں بلکہ یہ وہ شخصیت ہیں جن کا عشقِ رسولﷺ کے حوالے سے معاشرئے کی روحانی اقدار میں اتنا بڑا کام ہے شائد مستقبل کا ہی مورخ اس کا احاطہ کر پائے۔قیام پاکستان سے پہلے ہی یہ عظیم شخصیت اپنی مجاہدانہ صلاحیتوں سے امن وآشتی اور شمع توحید ورسالت کے حوالے سے سرگرم عمل رہی۔ اپنے والدِ محترم کی خواہش پر آپ نے عالم اسلام کی عظیم اسلامی جامعہ ، جامعتہ الازہر سے اکتساب فیض کیا۔ اگر پیرکرم شاہ صاحبؒ کی شخصیت کا جائزہ لیا جائے تو عقلی تقاضے حیرانی کے سمندر میں سرگرداں نظر آتے ہیں کہ ان کی شخصیت کا کونسا پہلو ہے جس کا احاطہ کیا جائے ایک ایسے اُستاد کہ پاکستان بھر میں آپ کے تعلیمی ادارئے قائم ہیں یعنی دارلعلوم محمدیہ غوثیہ بھیرہ شریف سے علم وآگہی کے وہ سرچشمے پھوٹ رہے ہیں کہ معاشرئے میں ان کی نفوس پذیری کی مشال نہیں ملتی۔ ان کے قائم کردہ ادارئے نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ، سپین، برطانیہ ، فرانس لاتعداد غیر ممالک میں دین اسلام کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ اسی طرح آپ کے ادارئے کے بیشمار طلبہء اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے ہر سال باقاعدگی سے جامعتہاالاازہر میں داخلہ لیتے ہیں اور ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطع کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ آپ کے قائم کردہ تعلیم ادروں میں کمپیوٹر، معاشیات،سائنس کی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ درحقیقت پیر کرم شاہ صاحبؒ کے تعلیمی مشن کا سب سے کامیاب پہلو یہ ہے کہ انھوں نے دینی ادروں میں ماڈریٹ سوچ کو پروان چڑھایا اور علمی تحقیقی امور پر زور دیا۔ روایتی اور جدیت کے تقاضوں سے ہم آہنگ مذہبی تعلیمی امور کو وسعت دی۔ یہ ہی وجہ ہے کہ آپ کے ادروں سے فارغ التحصیل افراد معاشرئے میں وہ کردار ادا کر رہے ہیں جو کہ نفوذپزیری کا حامل ہے۔ ایک اہم نکتہ جو کہ بہت اہمیت کا حامل ہے وہ یہ کہ پیر صاحب نے اہلسنت عوام کو معتدل رکھنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔ جمیت علما ئے پاکستان کے پلیٹ فارم سے عملی سیاست میں بھی وقت کے فرعونوں کو للکارا اور تحریک نظام مصطفےﷺ میں اہم کردار ادا کیا۔ اسی طرح آپ کا تحریک ختم نبوت میں بھی شاندار کردار رہا۔ ملک کے طول و عرض میں عشقِ مصطفےﷺ کے فروغ کے لیے دورے فرمائے اور اسی طرح آپ کی دینی و تبلیغی کاوشیں یورپ ، امریکہ ایشیا اور افریقہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔روحانی اعتبار سے پیرکرم شاہ صاحب کا تعلق چشتی سلسلے تھا۔لیکن آپ تمام سلاسل میں انتہائی محترم ترین ہستی کے طور پر مانے جاتے ہیں۔ زاویہ فاونڈیشن کے زیرِاہتمام لاہور میں منعقدہ ایک سیمینار میں جہاں راقم بھی شریک تھا آپ کے صاحبزادہ صاحب جناب پیر امین الحسنات صاحب نے فرمایا تھا کہ ہمارئے والد صاحب ن
ہمیں ہمیشہ ایک بات کی تلقین کرتے تھے کہ بیٹا ہمیشہ اسلام، پاکستان اور نبی پاکﷺ سے محبت کرنی ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ پیرامین الحسنات صاحب وطن پاک کی خاطر ہمیشہ پیش پیش رہتے ہیں۔جناب جسٹس پیر کرم شاہ صاحب کا ایک بہت بڑا کارنامہ ایک ضیاالقران پبلیکیشنز کی صورت میں ایک عظیم ادارئے کا قیام ہے جو پوری دنیا میں اسلامی کتب کی اشاعت اُردو کے علاوہ قرانِ مجید کے تراجم کی دنیا کی مختلف زبانوں میں اشاعت میں مصروفِ عمل ہے۔ اس کام میں آپ کے صاحبزدگان جناب حفیظ البرکات صاحب ، میجر ابراہیم شاہ صاحب اور محسن شاہ صاحب کا فعال کردار ہے۔وطن عزیز کی سیاسی سماجی ، معاشی، عمرانی حوالے سے رہنمائی کے لیے ماہنامہ ضیائے حرم عظیم صحافتی کردار کا حامل ہے یہ میگزین عالم اسلام کی ہر حوالے سے رہنمائی میں قابل ر شک کردار ادا کررہا ہے۔ ضیائے حرم میگزین میں جناب جسٹس پیرکرم شاہؒ کے اداریے اور مضامین پوری قوم اور پورے عالمِ اسلام کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ جسٹس پیرکرم شاہ کا ایک بہت عظیم کا ر نامہ قران مجید کی تفسیر ضیاالقران ہے جو کہ لاجواب علمی و روحانی کاوش ہے جس کا ترجمہ بہت سی زبانوں میں ہوچکا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپ نے عشقِ نبی پاکﷺ میں ڈوب کر لازوال ضیاالنبیﷺ کی تحریری کاوش کی جس کا ایک ایک حرف اور ایک ایک لفظ نبی پاکﷺ کی محبت میں ڈوبا ہوا ہے۔ راقم کی پیر کرم شاہ صاحب ؒ سے ملاقات اپنے پیرومرشد اور ماموں جان جناب حضرت پیر میاں عنائت خان قادری نوشاہی صاحب کے گھر میں ایک سے زیادہ مرتبہ ہوئی اور راقم کو پیر صاحب کی روحانی شخصیت سے اکتساب فیض کا موقع ملا۔ یقیناً ان جیسی ہستیوں کا روحانی فیض تاابد جاری رہے گا۔ پیر کرم شاہ صاحب نے بطور جج قابلِ ذکر کردار ادا کیا اور کئی لازوال فیصلے فقہی معاملات کے حوالے سے دیے۔پیر کرم شاہ صاحب کا ہمارے معاشرئے پر ایک اور بہت بڑا احسان عشق رسولﷺ کی علمبردار طلبہ تنظیم انجمن طلبہ اسلام کی سرپرستی ہے۔ پیرکرم شاہ صاحب نے ہمیشہ ہر معاملے میں انجمن طلبہ اسلا م کے تحریکی، تنظیمی اور تربیتی کاموں میں مدد کی۔ یوں معاشرئے میں عشقِ رسولﷺ کے فروغ کے لیے ایک عظیم گروہ تیار کیا جو زندگی کہ ہر شعبے میں فعا لیت کا حامل ہے۔ جناب پیر کرم شاہ صاحب ؒ کی جہدوجد ہمیشہ دین اسلام کی سربلندی کے لیے رہی۔ اگر ہم ان کی معاشرے کے لیے خدمات کا تزکرہ کریں تو یہ بات قرین قیاس ہے کہ یہ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے دین کی محبت اور وطن سے لگاؤ کی انمٹ داستان رقم کی۔آپ نہ صرف خود بلکہ اپنے حلقہِ اردات میں شامل افراد کا معاشرئے میں فعال کردار ادا کرنے کے داعی تھے۔ دین کی خدمت میں روز و شب اپنی مسا عی جمیلہ میں شبنم کے قطروں کی ماند آپ کے شاگرد اور مریدین پوری دنیا میں دینی فلاحی خدمات میں مصروف عمل ہیں۔آپ کے ہی حلقہ اردات میں شامل افراد زندگی کے بے شمار شعبوں میں اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک بات جو ببانگِ دہل کی جاسکتی ہے وہ یہ کہ پیر محمد کرم شاہ بیسویں صدی میں مسلمانوں کی رہنمائی کے لیے اقبالؒ اور حضرت قائداعظمؒ کی جدوجہد کے تسلسل کے علمبردار تھے۔ اُ پ کے قائم کردہ ادارئے اور اُن اداروں سے فیض یاب ہونے والے افراد معاشرئے میں اپنی خدمات اس انداز میں سر انجام دے رہے ہیں کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ پیر کرم شاہ صاحب ؒ کا مشن جاری وساری ہے ۔ رب پاک پیر کر م شاہ صاحبؒ کے درجات کو بلند فرمائے اور ان جیسی عظیم روحانی شخصیات کے طفیل اس ارض پاک کی حفاطت فرمائے۔(آمین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مضمون نگار میاں اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ اور انسانی حقوق کی عالم گیر تنظیم مصطفائی جسٹس فورم انٹرنیشنل کے سربراہ ہیں۔

یہ ارض وطن ہے جاں اپنی ۔۔ عبدالرحمان کی کہانی

یہ ارض وطن ہے جاں اپنی ۔۔ عبدالرحمان کی کہانی

میاں اشرف عاصمی

ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


انسان کی ز ندگی کے نشیب و فراز بھی عجیب ہیں جب انسا ن کا جی چایتا ہے کہ وہ سکون وآرام کرئے اُس وقت ایسا ہو نہیں پاتا۔اور پھر ایسا بھی ہوتا ہے کہ خوشی اُس وقت میسر آتی ہے جب انسان کے لیے اُس کی چنداں اہمیت نہیں رہتی۔ عبدالرحمان کی عمر اُس وقت سولہ سال تھی جب اُس کا باپ فوت ہوا۔ عبدالرحمن تین بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا۔ اُسکا باپ ایک شریف انسان تھا۔ اس لیے اپنی نوکری کے دوران اُس نے حرام کا لقمہ کبھی نہ خود کھایا تھانہ اپنی اولاد کے لیے کبھی اُس نے ایسا کیا ۔ ابھی ایک بیٹی کی شادی ہی ہوئی تھی کہ عبدالرحمن کا والد حاکم علی اپنی زندگی کے ایام مکمل کرکے نئی امید بھری راہوں کا راہی بن کر ملکِ عدم روانہ ہوگیا۔ عبدالرحمن کی رگوں میں ایک شریف ا لنفس باپ کا خون تھا اُسکی سمجھ سے بالا تر تھا کی یہ اچانک کیا ہوگیا۔ ماں نے بہتیرا سمجھایا کہ میرے لال اب زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے تمھیں بہت محنت کرنا ہوگی۔ یہ تقسیمِ ہند سے پہلے کا دور تھا پاکستان بننے کی قرارداد منٹو پارک جلسے میں منظور ہوئے دو سال بیت چکے تھے۔ ہر طرف تقسیم کی باتیں ہو رہی تھیں عبدالرحمن بھی گرمجوشی کے ساتھ تحریکِ آزادیِ پاکستان میں حصہ لے رہا تھا۔ کچھ عرصہ عزیزواقارب نے مدد کی اور گھر کا نظام چلتا رہا۔ آخر کب نطام اسی طرح رہتا۔عبدالرحمن نے پڑھائی کو خیرباد کہہ کر ایک کارخانے میں نوکری کرلی اور یوں گزر بسر ہونے لگی ۔ عبدارحمن کی ماں کو اپنی بیٹیوں کو بیاہنے کی بہت فکر تھی اُس نے کوشش کرکے باقی دونوں بیٹیوں کو بھی بیاہ دیا زندگی کا سفر رواں دواں رہا ۔ مطالبہ پاکستان میں شدت آچکی تھی ۔ عبدالرحمن ملازمت کے اوقات سے فارغ ہو کر آزادی کے مطالبے کے لیے منعقدہ جلسوں میں شرکت کرتا۔ہر طرف نعروں کی گونج ہوتی۔ لے کر رہیں گے پاکستان۔بن کے رہے گا پاکستان۔ ہندوں کی طرف سے یہ نعرہ لگتا جس نے مانگا پاکستان اُس کو دیں گے قبرستان۔ عبدالرحمن دہلی شہر کا باشندہ تھا۔ وہ اپنے ہم عصر دوستوں کے ساتھ پاکستان کے حق میں دن رات جلسوں میں شریک ہوتا۔ اُسے محمد علی جناح کی شخصیت میں بڑی جاذبیت محسوس ہوتی۔ وہ دن اُسکی زندگی کا انمول دن تھا جب وہ اپنے شہر کے ریلوئے اسٹیشن پر قائد اعظم کے دیدار کے لیے موجود تھا۔اچانک ریل رکی دروازہ کھلا مسلمانوں کے دلوں کی
دھڑکن نہایت سنجیدہ اور بارعب شخصیت کے حامل محمد علی جناح نمودار ہوئے مسلمانوں کا جوش وجذبہ دیدنی تھا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ ال لل لاہو کے نعرے عروج پر تھے۔ قائد اعظم ریل سے باہر تشریف لائے ریلوئے اسٹیشن پر تِل دھرنے کی جگہ نہ تھی۔ عبدالرحمن جو کہ قائدؒ کی سحر انگیز شخصیت کا دیوانہ تھا وہ آگے بڑھا ۔جو ش و خروش سے بھر پور نعرے لگ رہے تھے۔اُس کو ہوش تب آیا جب وہ قائد کے ہاتھوں کو بوسہ دے کر واپس پلٹا۔ وہ ایک عجیب سی نشے کی کیفیت میں سرشار تھا۔ اُس دم اُسکو یہ محسوس ہو رہا
تھا جیسے وہ دنیا کا خوش قسمت ترین انسان تھا۔عبدالرحمٰن کی آنکھوں میں شدتِ جذبات سے آنسو تھے اُس کی کیفیت اُس عاشق جیسی تھی جو اپنے محبوب کے وصال سے نہال ہو چکا تھا۔ وہ سرشاری میں گم تھا اُسے تو ہوش تب آیا جب اعلان ہوا کہ قائد ؒ محترم ابھی جلسہ گاہ کی طرف روانہ ہوگئے ہیں۔ عبدالرحمٰن بھی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جلسہ گا ہ کی طرف روانہ ہوا۔
عبدالرحمان انسانی آزادیوں کا علمبردار تھا وہ انسانی حقوق کے لیے زندگی کی ساعتوں کو وقف کرچکا تھا۔عبدا لرحمان جب کبھی بھی مسلمانوں کی نشاۃ ثانیہ پر فور کرتا تو وہ سوچوں کے سمندر میں فرق ہوتا چلا جاتاوہ خود کو حضرت عمر فاروق میں پاتا جن کے عدل نے دُنیا بھر میں اسلام کا بول بالا کیا وہ خود کو حضرت ابوبکرصدیقؒ کا غلام پاتا اور اُن کی نبی پاک ﷺ سے محبت کی حلاو توں کو اپنے تصور ہی تصور میں
اپنی روح پر محسوس کرتا۔اُس کا جی چاہتا کہ کاش اُس نے نبی پاکﷺ کے غلام حضرت بلال حبشی ؒ کی غلامی کی سعادت حاصل کی ہوتی ۔ وہ چشمِ تصور میں گھوڑے پر بیٹھا حضرت سلطان صلاح الدین ایوبی کا خودکو سپاہی پاتا اور اُنکی قیادت میں مجاہدانہ کردار ادا کررہا ہوتا۔ اُسے سلطان محمود غزنوی کی یاد کی حدت اپنے دل میں محسوس ہوتی اور وہ سرزمین ہندوستان میں ُ بت شکنی کے کارنامے یا د کرتا۔ وہ محمد بن قاسمؒ کی بہادری کو اپنے لیے مشعلِ راہ قرار دیتا ،دل زبان سوچیں سب اِس بات کی گواہ رہتیں کہ آقا کریمﷺ کی غلامی میں ہی مسلمانوں کی کامیابی اور نجات ہے۔ عبدالرحمان کی سوچ علامہ اقبالؒ اور قائد اعظم ؒ کی سوچ کا مظہر تھی۔ عبدالرحمان زندگی کو ہمیشہ بہار کی طرح گردانتا اُسے یہ بات بڑی تکلیف دیتی کہ مسلمانوں کو ہندوستان میں مذہبی آزادی پوری طور حاصل نہ تھی۔ اُس کے محلے دار دوست وغیرہ ہمیشہ اُسے طعنہ دیتے کہ وہ خواہ مخواہ جنونی مسلمان بنتا ہے وہ اُن ہندو اور سکھ دوستوں کو سمجھاتا کہ وہ اگر اپنے رب کی توحید پر ایمان رکھتا ہے اور وہ اپنے نبی پاکﷺ کے عشق کو ایمان کا درجہ دیتا ہے۔ تو وہ پھر دنگی فسادی کیسے ہو گیا۔ کیا اپنے نبی پاکﷺ کی شان میں گستاخی برداشت کرنا اعتدال پسندی ہے۔ عبدالرحمان کی کوششوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ لوگ یہ سمجھنے لگ گے تھے پاکستان کی خاطر اپنی جان کی بازی کا دعوی کرنے والے اب کسی طور پیچھے ہٹنت والے نہیں ۔
عبدالرحمان کو جب ایسے لوگوں کی باتیں سننے کو ملتیں جو کہ مذہب کے نام پر تقسیم کے خلاف تھے تو عبدالرحمان اُن کا سمجھاتا کہ کیا انگریز دور میں مسلمان اور ہندووں امن و آشتی سے رہ رہے ہیں؟ کیا مسلمان اور ہندوو کا کلچر ایک جیسا ہے؟ کیا ہندووں اور مسلمان ایک دوسرے کے ساتھ شادیاں کرتے ہیں ؟ کیا ہندو چھوت چھات کے قائل نہیں ہیں؟ کیا مسلمانون اور ہندووں کا سماجی ڈھانچہ ایک جیسا ہے؟ عبدالرحمان کہتا کہ ہم تو صرف ایک رب کو اپنا رب مانتے ہیں۔ ہم تو الہامی کتابوں کو مانتے ہیں۔ ہندووں تو ایک خدا کے قائل ہی نہیں ہیں۔ ہندو نہ ہی الہامی کتابوں کو سچا قرار دیتے ہیں۔ ہندو تو ذات پات چھوت چھات میں اتنے ُ پرعزم ہیں کہ وہ اپنے جیسے انسانوں کو ہی شودر سمجھتے ہیں اور اُن سے ہاتھ ملانا بھی گناہ قرار دیتے ہیں۔
تحریک پاکستان کے دوران مسلمانوں کا جوش و جذبہ دیدنی تھا ۔ برصغیر پاک وہند کے طول و عرض میں مسلمان اپنے قائد محمد علی جناحؒ کی ایک آواز پر اپنا تن من دھن سب کچھ قربان کرنے کے لیے تیار تھے۔ قائدؒ کی پکار پر پورے ہندوستان کے بچے بوڑھے، جوان،طالبعلم۔ علماء مشائخ ، خواتین سب میدان میں تھے اور پاکستان کے حصول سے کم کسی بھی ایجنڈے پر بات کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔آخر وہ دن آپہنچا۔ جب پاکستان کے مطالبے کی شدت نے انگریزوں کو مجبور کردیا کہ پاکستان اور ہندوستان کو علحیدہ اور خود مختار ملک بنانے کے علاہ اُن کے لیے کوئی اور چارہ نہ تھا۔ انگریز حکمران اس بات کا ادراک رکھتے تھے کہ ہندو اور مسلمان کبھی بھی اکھٹے نہیں رہ سکتے۔اور ہندوستان میں مسلمانوں نے سینکڑووں سال حکومت کی اُس کے باجود دونوں قومیں آپس میں مد غم نہ ہوسکیں۔ پس انگریز اس بات پر مجبور ہوگے کہ پاکستان کا بننا ناگزیر ہے۔ مسلمانوں کے لیے علحیدہ وطن کا مطالبہ صرف زمیں کا ٹکرا حاصل کرنے کے لیے نہ تھا ۔بلکہ یہ تو نظریات کی جنگ تھی۔ یہ توحید اور بُت پرستی کے درمیاں فرق تھا۔ مسلمان کیسے اپنا نظریہ اسلام چھوڑ سکتے تھے۔ جب برصغیر کی تقسیم کا اعلان ہوا تو مسلم اکثریتی علاقے پاکستان اور دوسرے علاقے ہندوستان کے حصے میں آئے۔ عبدالرحمان کا علاقہ تو دہلی تھا اور دہلی پاکستان کی جغرافائی حدود میں نہ تھا۔ پس عبدالرحمن کو محلے داروں اور رشتے داروں نے سمجھایا کہ تم اِدھر ہی رہ جا ؤ۔ لیکن اُس کو تو پاکستان سے عشق تھا اُس نے اپنی ماں کو بھی رضا مند کرلیا تھا کہ وہ دو نوں پاکستان ہجرت کرجائیں۔ 17 اگست 1947 ء کی سحری کا وقت تھا عبدالرحمان اپنی ماں کے ساتھ ایک پوٹلی کپڑووں کے سر پر رکھے ان دیکھے راستوں کا مسافر بننے کے لیے تیار تھا اپنا گھر اپنے ماموں کو دے دیا تھا۔ ماموں نے بہتیرا سمجھایا تھا کہ عبدالرحمان تم خود پاکستان چلے جاؤ جب وہاں کوئی ٹھکانہ وغیرہ بن جائے تو اپنی ماں کو بھی لے جانا لیکن عبدالرحمان کو کون سمجھاتا وہ تو محمد علی جناحؒ کا عاشق تھا ۔ جب بوڑھی ماں کے ساتھ اُس نے لاہور جانے کا راستہ لیا تو اُس کے اندر ایک عجیب سی روحانی کیفیت جگہ بنا چکی تھی۔ مختلف بسوں ٹرکوں پر سفر کرتے ہوئے ماں بیٹا واہگہ بارڈر سے ابھی چند میل دور تھے کہ سکھوں نے اُن کے قافلے پر حملہ کردیا بس پھر کیا تھا عبدالرحمان کے پاس تو کوئی اسلحہ تھا نہیں وہ اپنی ماں کو نہ بچا سکا وہ سکھوں کے ہا تھوں شہید ہوگی۔ ماں کے میت کو وہیں چھوڑ کر عبدالرحمان قافلے میں بچ جانے والے لوگوں کے ساتھ پاکستان کی سرحد میں آگیا اور مناواں گاوٗں میں قائم مہاجر کیمپ میں رہنے لگا۔ کیمپ میں روٹی پانی مل جاتا اور وہ گزر بسر کرتا۔ پھر ایک دن الا ٹمنٹ کے محکمے والوں نے کیمپ میں موجود سب لوگوں کو ایک ایک مکان الاٹ کردیا۔ عبدالرحمان اُداس تھا کہ اُس کی کُل کائنات اُسکی ماں اس پیارے وطن میں اُسکے ساتھ نہ تھی وہ ایک نئے دور کا خواب اپنی آنکھوں میں سجائے ایک چھوٹے سے مکان میں رہائش پذیر ہوگیا۔ عبدالرحمان کو یقین کامل تھا کہ اُس نے یہ ہجرت کسی مادے فائدے کے لیے نہیں بلکے اپنے رب پاک اور نبی پاکﷺ کی خوشنودی کے لیے کی تھی۔ عبدالرحمان اب بھی اندرون لاہور شہر کے ایک کوچے میں رہائش پذیر ہے اور اُس کے بیٹے ، پوتے نواسے اُس کو اپنے لیے مینارہ ِ نور سمجھتے ہیں۔ عبدالرحمان گو کہ بوڑھا ہو چکا ہے لیکن اب اُس کے دل میں تحریک پاکستان والا جذبہ قائم دائم ہے وہ اپنے خاندان والوں کو یہ ہی سبق دیتا ہے کہ اس وطن کی حفاطت کرو اس کی بنُیادوں میں شہیدوں کا لہو ہے۔صرف ڈالر کمانے کی خاطر اس کو چھوڑ کے مت جاؤ کیونکہ ڈالر تو مل جائیں گے لیکن آزاد وطن کی آزاد سانسیں حا صل نہ ہو پائیں گی۔ عبدالرحمان کا اپنے پوتے پوتیوں نواسے نواسیوں کو کہنا تھا
کہ اس وطن کی قدر کرو یہ وطن یونہی پلئٹ میں رکھ کر انگریزووں ور ہندوون نے ہمیں نہیں دے دیا تھا بلکہ اس کے لیے ملمانون نے ایک طویل جدوجہد کی تھی۔ اس وطن کی تحریک کا آغاز حضرت محمد بن قاسم ؒ کی برصغیر آمد سے ہوا اور اس وطن کی تحریک میں برگزیدہ ہستیوں کی محنت شاقہ شامل ہے۔ حضرت داتا گنج بخشؒ ، میاں میرؒ ، شاہ شمس تبریزؒ ، سائیں سچل سرمتؒ ، میاں وڈا صاحبؒ ، نوشہ گنج بخشؒ ، جیسے اولیاء اکرام کا یہ پاکستان فیضان ہے۔ عبدالرحمان نے اپنے بیٹوں ، بیٹیوں اور اُن کی اولادوں کی تربیت اس انداز میں کی کہ نبی پاکﷺاور پاکستان کی محبت پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرنا۔عبدالرحمان اپنے بچوں کو پاکستان کے وجود کی اہمیت دلواتا اور اُنہیں سمجھاتا کہ حضرت علامہ اقبال ؒ نے اسلامیان ہند کو پیغام خودی دیا ۔ انہیں جگایا اور ایک قوم کی شکل میں متشکل کر دیا ۔ حضر ت قا ئد اعظم ؒ نے اسلامیان ہند کو اپنی تقاریر ، خطابات ، اور علمی اور قانونی نظریات وارشادات کی روشنی میں انگریزوں اور ہندؤں کی استعمار پسند انہ اور تشدد آمیز رویوں سے آگاہ کرتے رہے اور انہیں اپنی اسلامی اقدار و رو ایا ت اور تاریخ کی روشنی میں تیار رہنے کی ہدایت کرتے رہے۔ حضرت قائداعظم ؒ نے اسلامیان ہند کے قلوب واذہان میں آزادی کی جو لو لگائی وہ الاؤ بن کر سامنے آئی اور پاکستان دنیائے انسانیت کے نقشے پر بڑی شان وشوکت کے ساتھ ظہور پزیر ہوا۔ قرآن حکیم نے استفسار فرمایا: خدا تعالیٰ نے تم سب کو تخلیق فرمایا ‘ پھر تم میں سے ایک گروہ نے بلند و بالا اور عالمگیر انسانیت سے انکا کردیا ‘ اور دوسرے گروہ نے اسے تسلیم کر لیا۔ ((64/2 یہی وہ انسانیت کی تفریق اور امتیاز کا معیار ہے جو قرآن حکیم انسانوں کے لیے پیش کرتا ہے۔ اسی کے مطابق دواقوام واضح ہوتی ہیں ایک مسلم دوسری غیر مسلم ۔ ایک مومن اور دوسری کافر یہی وہ فلسفہ فکر نظر تھا کہ حضرت نوح ؑ اپنے بیٹے سے الگ ہو گئے اور حضرت ابراہیم ؑ اپنے باپ سے علیحدہ ہو گئے۔ کیونکہ دونوں کی حقیقی کیفیت میں نظرۂ حیات مبنی بروحی سے ہم رنگ اور ہم آہنگ نہ تھا قرآن کے حوالے سے حضرت ابر اہیم ؑ کو کہنا پڑا۔ (یعنی تم میں او ر ہم میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کے لیے کھلی عداو ت اور نفرت رہے گی۔)چنانچہ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ اسلامی ریاست وحکومت میں کسی غیر مسلم کو کبھی شامل نہ گیا۔ حضور پاک ﷺ کی مجلس شوریٰ میں کبھی کوئی غیر مسلم نہ تھا۔ خلفائے راشدین رضی اللہ علیم اجمعین کی مجلس شوریٰ اور پارلیمان میں کوئی غیر مسلم داخل نہ تھا ۔ بلکہ کافر یا غیر مسلم ، ملت اسلامیہ کا فرد ہی نہیں تھا لہٰذا اسلام اور قرآن کے نزول کے ساتھ ہی بنی انسان دو مختلف نظریات اور حتمی طبقات میں تقسیم ہو گئے۔ ایک نظریہ ایمان نہ لانے والوں کا ۔ چنانچہ اولاد آدم دو کیمپوں میں تقسیم ہو گئی شرار بو لہبی ایک جانب اور چراغ مصطفیٰ ﷺ دوسری جانب ، اس نظریے نے خون اور حسب و نسب کی نفی نھی کردی ۔ برادری ، قبیلے اور ذات پات کو ملیا میٹ کر کے رکھ دیا ۔ اس کی بہترین مثال جنگ بدر اور جنگ اْحد ہے جس میں نبی آخر الزماں حضور اکرم ﷺ دوسرے صحابہ کرام کے قریبی رشتہ دار دشمن کے صف میں براجماں تھے، چنانچہ قرآن نے کافروں اور منافقین کے ضمن میں ملت اسلامیہ کو بڑی سختی سے متبنہ کیا ہے۔ اسلامی نقطہ نظر سے نظرۂ پاکستان کا آغاز ، تشکیل ، اور تراویج برصغیر میں اس وقت ہوئی جب مسلمانوں کو انتشار و افتراق اور زوال و انھطاط کا سامنا کرنا پڑا اور ہندوں کی اصل فطرت کے شاہکار وں کا سامنا کرنا پڑا ۔ ان کے مظالم کا گھناونی سازشوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔ بالخصوص 1857ء ؁ کی جنگ آزادی کے بعد کی بڑی دلدوزداستان ہے، جسے غربی اور شرقی مفکرین و مصنفین نے خوب بیان کیا ہے یہ اپنے طور پر ایک طویل داستان ہے۔ مولانا ابولکلام آزاد کی کتاب india wins freedom ولیم ہنٹر کی کتاب 5 indian mussalmans عبدالوحید خان کی کتاب تقسیم ’’ہند‘‘ اور ان کی دوسری کتاب ’’ مسلمانوں کا ایثار اور آزادی کی جنگ‘‘ کالنز اور لاپیئر کی کتاب \'freedom at midnight\' اور پروفیسر منور مرزا کی کتاب Dimension of Movement اور دیوار’’ برہمن‘‘ کا مطالعہ کرلیں۔ ان شنکرو ں ، دیالوں ، بگوپالوں ، مہاجروں، ساہنیوں ، دھوتی پرشادوں ، چٹیا گھنٹانوں ، ایڈانیوں ، ملکانیوں، مشراوں، بال ٹھاکروں، من موہنوں اور بڑے بڑے مہاپرشوں نے اسلام ، پاکستان ، نظریہ پاکستان دو قومی نظریہ اور مسلمان دشمنی میں کسر اٹھا رکھی اور یہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے۔ ہمارے سابق مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے غدار سیاستدانوں نے ہماری تاریخ اسلام کو منسخ کر کے رکھ دیا۔ جو ایمانی اور ایقانی روح سے محروم تھے۔ جو قرآنی جرات و استقامت سے سرمایہ دارا نہ تھے۔ ہمارے جسم کا ایک بازو کٹ گیا چنانچہ اندر گاندھی نے زور خطابت کے نشے میں یہ کہا ’’ آج ہم نے دو قومی نظریہ خلیج بنگال میں ڈبو دیا ہے، ہم نے ایک ہزار سال کا بدلہ لے لیا ہے۔ لیکن ہم نے اندرا گاندھی اور ان کے مخلص چیلوں چانٹوں اور حواریوں اور ان کے حاشیہ برداروں کو اسی وقت باور کرارہے ہیں اور کراتے رہیں گے کہ جب تک ایک مسلمان بچہ بھی برصغیر پاک و ہند میں زندہ ہے اسلام اور کفر کی جنگ جاری رہے گی، اسلام کا جھنڈا موجود رہے گا ،۔ عبدالرحمان ضیف اور بوڑھا ہونے کے باوجود حضرت علامہ اقبالؒ کے مزار پر اکثر حاضری دیتا ہے اور ۱۴ اگست کو یوم پاکستان جوش و خروش سے مناتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ عبد الرحمان جیسے عظیم لوگ ہمارے معاشرے کے لیے سرمایہ افتخار ہیں جن کے سامنے مادی ترقی ہیچ ہے اور نظریات،رب پاک اور اُس کے نبی پاک ﷺ کی محبت سب سے اعلیٰ و ارفع ہے۔عبدالرحمان کی زندگی کا مرکز و محور پاکستان سے محبت اور پاکستان کے لوگوں سے محبت ہے۔ وہ پاکستان بنانے کی اُن وجوہات کو نوجوانوں کے اذہان میں ڈال رہا ہے جو پاکستان کے وجود کی حقیقت نہیں جانتے۔ عبدالرحمان کو پاکستان سے محبت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ اُس نے پاکستان کی تحریک میں خود حصہ لیا اور قائد اعظمؒ کے سامنے یہ عہد کیا تھا کہ اس وطن کو لے کر رہیں گئیااور اس پاک وطن کے لیے جان مال کی قربانی ، ماں کی شہادت اور اپنے اباوء اجداد کے علاقے سے ہجرت اور بہنوں، رشتے داروں سے جُدائی کا صدمہ برداشت کیا تھا۔ عبدالرحمان جیسے تحریک پاکستان کے گمنام مجاہد اس وطن کے لیے ایک روشن مینار ہیں۔پاکستان زندہ باد۔


ف میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ ہا ئی کورٹ گزشتہ دو دہائیوں سے سماجی ،معاشی عمرانی و قانونی موضوعات پر لکھتے ہیں۔ ہائی کورٹ میں وکالت کرتے ہیں درگاہ حضرت میاں وڈاصاحبؒ لاہور کے خانوادے سے تعلق ہے۔ انسانی حقو ق کی عا لمگیر تنظیم مصطفائی جسٹس فورم کے چئیرمین اور ہیومن رائٹس فرنٹ پاکستان کے سربراہ ہی